PARC
تعارف

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے قیام کا تاریخی پس منظر

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل زرعی تحقیق کے میدان میں وطن عزیز کا اعلی اورباوقار ادارہ ہے جس کا قیام ایک نیم خود مختار ادارے(باڈی کارپوریٹ ) کی حیثیت سے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل آرڈیننس1981 کے ذریعے عمل میں لایا گیا۔پی اے آر سی وفاقی وزارت تحفظ خوراک و تحقیق کے زیر انتظام زرعی تعلیم، تحقیق اور توسیع کے شعبہ جات میں دیگر تحقیق و ترقی کے ملکی و بین الاقوامی محکموں اور اداروں کے تعاون و اشتراک سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی تشکیل ایک شاندار تاریخی پس منظر کی حامل ہے۔اس تاریخی سفر کی مختصر داستان درج ذیل ہے:

  • قیام پاکستان کے فوری بعد 1948 ء میں زرعی ترقی کے فروغ کے لئے وفاقی سطح پر ایک خوراک و زراعت کمیٹی (Food ; Agriculture Committee) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
  • 1951 ء میں خوراک و زراعت کمیٹی کو ختم کرکے پاکستان خوراک و زراعت کونسل
    (Food ; Agriculture Council of Pakistan)قائم کی گئی ۔
  • 1964ء میں پاکستان خوراک و زراعت کونسل کے فرائض و اختیارات میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ زرعی تحقیقاتی کونسل (Agriculture Research Council ) کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا اور اس کو زرعی تحقیق کے شعبہ میں فیلو شپ کو سپانسر کرنے کااختیاربھی سونپا گیا.
  • 1968 ء میں ملک میں زرعی تحقیق کی صورتحال اور ضروریات کا جائزہ لینے کے لئے ایک پاک امریکہ زرعی تحقیقی جائزہ ٹیم تشکیل دی گئی۔
  • 1973 ء میں پاک امریکہ جائزہ ٹیم نے پاکستان میں زرعی تحقیق کی صورتحال کا جائزہ لیا اور زرعی تحقیقاتی کونسل کو مزید با اختیار اور مؤثر بنانے کی سفارشات پیش کیں۔ان سفارشات کی روشنی میں زرعی تحقیقاتی کونسل(ARC) کو از سر نو منظم کیا گیا.
  • 1974 ء میں زرعی تحقیقاتی کونسل (اے آر سی ) کے صدردفتر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔
  • 1978 ء میں زرعی تحقیقاتی کونسل کی از سر نو تشکیل زرعی تحقیق کے شعبہ کو وسیع بنیادوں پر استوار کرنے کی غرض سے کونسل کے انتظامی ڈھانچے میں صوبوں میں کام کرنے والے سائنسدانوں،دیگر تحقیقی اداروں کے سربراہان. زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرزاور اور ترقی پسند کسانوں کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔.
  • 1980 ء میں عالمی بینک، یو ایس ایڈ اور سیڈا (CIDA) کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ مشن، سر چارلس پریرا کی قیادت میں تشکیل دیا گیا جس نے پورے پاکستان کا دورہ کیا اور قومی زرعی تحقیقاتی نظام کے گہرے جائزہ کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔ مشن کی سفارشات میں زرعی تحقیقاتی کونسل میں تبدیلی و اضافہ کر کے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے نام سے ایک خود مختا رادارے کے قیام کی تجویز شامل تھی ۔
  • 1981 میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی آرڈیننس مجریہ1981 کے ذریعے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔بعد ازاں آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے پارلیمان نے پی اے آرسی آرڈیننس کی منظوری دے کر اس کے قیام کو باقاعدہ آئینی حیثیت دے دی۔ء