PARC

تحقیقی ادارہ برائے قومی چائے شنکیاری، مانسہرہ(NTHRI)

تعارف

پاکستان چائے درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے اور 2017 میں چائے کے استعمال کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک 93500 میٹرک ٹن سبز چائے در آمد کی گئی جسکی مالیت بتدریج22 بیلین کالی چائے اور 106 میلین روپے کی سبز چائے در آمد کی گئی کالی چائے 17 ممالک سے در آمد کی گئی جس میں 75 فیصد کینیا سے در آمد کی گئی اور سبز چائے 3 ممالک سے در آمد کی گئی جس میں سے 66فیصد چائنہ سے در آمد کی گئی۔پاکستان کی چائے کی در آمدات میں گزشتہ 20 سالوں میں 325فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے چائےپر تحقیق کا یہ ادارہ کالی اور سبز چائے کی پیداوار و نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملکی ضروریات کے مطابق بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ چائے کی فصل کی اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فصل کے پودے کی زندگی 70 سے 100 سالوں کے درمیان ہوتی ہے اور اس فصل کی پیداوار سے روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ اس فصل کی کاشت سے بے کار زمین کو استعمال میں لا کر آلودگی کو ختم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔اس ادارے میں کی جانے والی تحقیق کی مدد سے 64000 ہیکٹر زمین کو جانچا گیا ہے اور غیر ملکی چائے کی اقسام کی سکریننگ کی گئی ہے۔مختلف ماحولیاتی زونز میں کسانوں کے کھیت میں فصل کی کاشت کی گئی ہے۔ یہ ادارے اپنے کالی چائے کے پراسسنگ پلانٹ سے ایک دن میں ایک ٹن چائے کی پراسسنگ کر سکتا ہے۔