PARC

زرعی تحقیاتی مرکز برائے خشک علاقہ جات ڈیرہ اسماعیل خان
AZRC

تعارف

زرعی تحقیقاتی مرکز برائے خشک علاقہ جات ڈیرہ اسماعیل خان1974 میں زرعی تحقیقاتی مرکز برائے خشک علاقہ جات کے زیرِ انتظام ذیلی دفتر کی صورت میں قائم کیا گیا۔ اس ذیلی دفتر کے قیام کے مقاصد یہ تھے کہ خشک علاقہ جات کے کسانوں و زمینداروں کو زراعت کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل اور ان کے لیئے مناسب سہولیات کا بندوبست کیا جائے تا کہ علاقے کی عوام کی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔1996 میں اس دفتر کو ادارے کا درجہ دے دیا گیا۔ جبکہ 2015 میں اس ادارے کو مرکز کے درجے پر ترقی دے دی گئی اور اس کے زیرانتظام چار’’مطابقتی تحقیقاتی و مظاہراتی ادارے‘‘، وانا(جنوبی وزیرستان ایجنسی)، میرانشاہ (شمالی وزیرستان ایجنسی)، ٹانک، اور لکی مروت میں قائم کیئے جا رہے ہیں۔ زرعی تحقیقاتی مرکز برائے خشک علاقہ جات ، صوبہ خیبر پختونخواہ کے خشک و نیم خشک علاقہ جات کی زرعی تحقیقاتی ضروریات فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا۔ باوجود محدود وسائل کے یہ مرکزاپنی ایجاد کردہ زیادہ پیداواری صلاحیت و زیادہ قوتِ مدافعت رکھنے والی فصلوں کی اقسام اورکسانوں اور زراعت سے متعلقہ افراد کو بہترپیداواری فنون کی رہنمائی کی فراہمی کے ذریعے سے خشک علاقہ جات میں زرعی پیداوار میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ادارے کے سائنسدانوں کی ایک سو سے زائد تصانیف اور تحقیقاتی مقالہ جات ملکی و بین الاقوامی تحقیقاتی رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں مختلف تحقیقاتی مراسلے اوررہنما کتب و معلوماتی کتابچے قومی زبان میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ حالیہ تحقیقاتی اشاعتیں انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کا محلِ وقوع و حدودِ اربعہ/جغرافیہ

ڈیرہ اسماعیل خان، صوبہ خیبر پختونخواہ کا انتہائی جنوبی ضلع ہے، جو کہ 31.15 سے 32.32 ڈگری شمالی عرض بلد اور 70.11سے 71.20 طول بلد کے درمیان ہے۔ جبکہ سطح سمندر سے 178میٹر (583فٹ )بلندی پر واقع ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کا کل رقبہ 0.896 ملین ہیکٹر ہے، جس میں سے صرف 0.300 ملین ہیکٹر(ایک تہائی)حصہ قابلِ کاشت ہے۔ قابلِ کاشت رقبے میں سے تقریباََ ایک تہائی حصہ (0.105ملین ہیکٹر)نہری ہے جبکہ باقی دو تہائی حصہ (0.195 ملین ہیکٹر)بارانی و رودکوہی ہے۔

ازرک فارم

زمینی وسائل کے حوالے سے مرکز کاکل رقبہ73 ہیکٹر(178 ایکڑ)ہے۔مرکز کا ایک زرعی فارم ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے تقریباََ 15 کلو میٹر دور وانڈہ بلوچاں میں واقع ہے۔

آب وہوا

ڈیرہ اسماعیل خان کی آب وہوا بارانی سے نیم بارانی اور نیم گرم ہے۔ یہاں سالانہ اوسطاََ350 سے 400 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔جس میں تقریباََ 60 فیصد بارش گرمیوں(خریف) میں جبکہ 40 فیصد بارش سردیوں (ربیع) میں ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ بارش جولائی میں ہوتی ہے جبکہ کم سے کم بارش نومبر کے مہینے میں ہوتی ہے۔زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48ڈگری سینٹی گریڈ سے49ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت01 ڈگری سینٹی گریڈسے03 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔

زمین کی ساخت

ڈیرہ اسماعیل خان کی زمین اپنی طبیعی ساخت اور نمی کی بنیاد پر مندرجہ ذیل بنیادوں پر تقسیم کی گئی ہے۔

۱۔رود کوہی

’’ایسی زمین جس میں آبپاشی بارشوں کے نتیجہ میں پہاڑوں سے آنے والے ندی نالوں کے سیلابی پانی سے ہوتی ہے، رود کوہی کہلاتی ہے۔‘‘
’’رود‘‘ سے مراد پانی، جبکہ ’’کوہ‘‘ سے مراد پہاڑ ہے۔رود کوہی کے نظام کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کی زراعت 0.230 ملین ہیکٹر ہے۔
رود کوہی کی زمین کی ساخت تقریباََ ریتیلی چکنی مٹی سے چکنی مٹی کے جیسی ہے اور زرخیز ہے۔یہاں کی زمین نمکیات زدہ بھی نہیں ہے۔ ربیع کی فصل میں زیادہ تر یہاں گندم اور چنا جبکہ جوار اور خربوزہ خریف میں کاشت کیا جاتا ہے۔ فصلوں کی کاشت کا تمام تر انحصار سیلابی پانی پر ہوتا ہے۔ اگر یہ سیلابی پانی میسر نہ ہو تو فصلوں کی کاشت ممکن نہیں۔

۲۔بارانی زمینیں

بارانی زمینوں کو مزید درج ذیل حصوں میں بانٹا گیا ہے۔

(i) ریتیلی کم پیداواری زمین

ڈیرہ اسماعیل خان کی شمال مشرقی پٹی، جو ’’چشمہ رائٹ بینک کینال‘‘ نہر کے دائیں جانب پہاڑپور سے شروع ہو کر مغرب میں شیخ بدین کی پہاڑیوںتک پھیلی ہوئی ہے، ریتیلی ہے۔جس کی وجہ سے زمین میں پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے اور زیادہ تر پانی بخارات کی صورت میں اُڑ جاتا ہے۔جس کی وجہ سے اس زمین کی پیداواری صلاحیت کم ہے۔
گندم اور چنا یہاں کی ربیعی فصلیں ہیں، جبکہ گوارا اور باجرہ خریف کی فصلیں ہیں ۔ ان فصلوں کا انحصار بروقت بارش پر ہوتا ہے۔سَر کَنڈا ، مِزری، بیر، اور جنگلی کھجوریں یہاں کی قابلِ ذکر وقابلِ منافع نباتات ہیں۔

(ii) چکنی مٹی والی بنجر زمین

چکنی مٹی اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ خطہ تقریباََ سارا سال بنجر اور غیر آباد رہتا ہے۔کم بارش اور رود کوہی پانی کی عدم دستیابی اسکی بڑی وجوہات ہیں۔