PARC
اہم کامیابیاں

پاکستان میں کینولا (سرسوں) کا تعارف اور فروغ


Canola Hybrid seed production at NARC
Rabi 2011-12

چیلنج:

  • پاکستان اپنی خو ردنی تیل کی ملکی ضرو ریا ت (22ملین ٹن)کا 70فیصد پر درآ مداد سے پوری کر تا ہے جس پر 2010سے 2011میں اخرا جا ت تقریباً 2کھر ب رو پے رہے ۔
  • آبا دی اور فی کس استعمال میں اضا فہ کے با عث سے یہ صو رتحال جا ری رہنے بلکہ مزید خرا ب ہو نے کا خد شہ ہے ۔
  • ہما را ہدف تھا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضا فہ کے ذریعے خور دنی تیل کی پیداوار بڑھا کر درآمدنی مل کو کم سے کم کیا جا ئے ۔
  • 1980کی دہا ئی کے اوائل میں پی اے آر سی نے خو ردنی تیل کی بڑھتی ہو ئی ضرورت کو پورا کر نے کے لیے کنو لا تیل مکی کے ۔۔۔میں بہتری کے لیے تحقیق کا آغا ز کیا ۔
  • 84-1983میں این اے آر سی میں کینڈا کے کنولا کلیٰ در BARCپرا جیکٹ کے ذریعے متعا رف کر ایا گیا ۔
  • 1990کی دہا ئی کے شر وع میں زیا دہ پیداواری صلا حیت کی حا مل آسٹر یلوی کلی درز شیرائی ،ڈنکڈ ، آسکر ، رینو اور رینج کو متعارف کرایا گیا
  • 1996-97ء میں BARDCپراجیکٹ کے تحت کینولا کی اوپن پولی نیٹڈ اقسام پر تحقیق کی گئی
  • 90ء کی دہائی کے اواخر میں زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل کینولا کی دوغلی اقسام کی تیاری پر تحقیق کا آغاز کیا گیا
  • 2009ء میں کینولا کی مقامی /ملکی اقسام کی تیاری پر توجہ مرکوز کی گئی
  • 2007تا 2011ء کے دوران کے ایک منصوبے کے تحت دوغلی اقسام کے ملاپ اور ارتقاء کے لیے زیادہ خالص نسلی (ان برڈ لائنز )کی تیاری پر کام کیا گیا

نتائج :

  • 1996ء میں این اے آرسی کے سائنسدانوں نے کینولا کی نئی اقسام کون I-اور کون II-اور کون تھری کے نام سے تیاری کی جار ہی ہے
  • 1991ء میں نجی شعبہ کی آئی سی آئی کمپنی نے ملک میں کینولا کی کاشت کے فروغ کے لیے آسٹریلیاء اور کینیڈا سے درآمد کردہ تین دوغلی اقسام متعارف کرائیں گئیں
  • 1996ء سے 2005ء کے دوران آئل سیڈ ریسرچ پروگرام این اے آرسی نے کاشتکاروں میں 200ٹن سے زائد کینولا بیج تقسیم کئے
  • 1996ء میں پی اےآرسی نے پہلی بار کینولا کی پیداوار سے تیل حاصل کیا اور خما کینولا کے نام سے بازار میں پیش کیا ۔نتیجہ ملک میں خوردنی تیل کی صنعت کے قیام کی صورت میں سامنے آیا اورسیزن کینولا ،کسان کینولا ،ڈالڈاکینولااور حبیب کینولا وغیرہ جیسے برانڈ ز مارکیٹ میں عام ہوئے ۔
  • 2007ء میں این اےآرسی نے کینولا کی مزید دو اقسام باکولا اور کینولا رایا اور ان کا 210ٹن بیج کاشتکاروں کو فراہم کیا گیا
  • 2010ت ا2011ء میں پہلی دوغلی ورائٹی (پی اےآرسی )تیار کی گئی جو برآمدی کینولا ہائیولا 401ورائٹی کے برابر پیدواری صلاحیت کی حامل ہے
  • 201تا 2011ء اور 2011تا 2012ء میں بالترتیب 18ٹن اور 12ٹن دوغلی ورائٹی کا بیج بازار سے آدھی قیمت پر فروخت کئے گئے پیش کیا گیا ۔

مستقبل :

  • زیادہ یکساں اور مسابقتی پیرنٹ لائن
  • زیادہ سے زیادہ ایسی دوغلی اقسام کےلیے تجربات پر جو زیادہ سے زیادہ پیداوار اور مدافعت کی حامل ہوں

کسانوں کی رائے:
پی اے آر سی کی جانب سے کینولا کی تعارفی فصل خطہ پوٹھوہار کے کسانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارے وسائل میں اضافہ ہو گا بلکہ کسانوں کی زندگیوں میں بھی بہتری آئے گی۔
(ملک آصف نواز، سابق جنرل سیکرٹری کینولا ،گائوں بھالوٹے ،فتح جنگ)

شراکتدار :-
ڈاکٹر عبدالرحمن ، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر محمد امجد رانا، ڈاکٹر بخت روئےدار، ڈاکٹر اکبر شاہ محمند، میاں عبد الماجد، ڈاکٹر عبد الراشد، (پی اے آر سی کینولا ہائبرڈ ڈویلپمنٹ آئل سیڈ پروگرام، این اے آر سی