PARC
انتظامی ڈھانچہ

انتظامی ڈھانچہ

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ، وفاقی وزارت برائے تحفظ خوراک و تحقیق حکومت پاکستان کے ماتحت مسلسل وراثت اور مشترکہ مہر کی حامل ایک باڈی کارپوریٹ ہے جس کا انتظامی ڈھانچہ درج ذیل ہے۔

بورڈ آف گورنرز

کونسل کے جملہ امورومعاملات کا کنٹرول،حکم اور نگرانی کا کلی اختیاردرج ذیل ارکان پر مشتمل ایک انتظامی بورڈ (بورڈ آف گورنرز ) کے پاس ہے

سرکاری ارکان

1
وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق حکومت پاکستان
صدر
2
سیکرٹری وفاقی وزارت تحفظ خوراک و تحقیق حکومت پاکستان
رکن
3
چئیرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل
چئیرمین
4
سیکرٹری وزارت خزانہ یا نمائندہ (ایڈیشنل سیکرٹری)
رکن
5
ممبر (خوراک و زراعت ) منصوبہ بندی کمیشن حکومت پاکستان
رکن

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے کل وقتی اراکین

6
ممبر (علوم نباتات ڈویژن)
رکن
7
ممبر (قدرتی وسائل ڈویژن)
رکن
8
ممبر (علوم حیوانیات ڈویژن)
رکن
9
ممبر (سماجی علوم ڈویژن)
رکن
10
ممبر (فنانس ڈویژن)
رکن

غیر سرکاری اراکین

11
ڈاکٹر امیر محمد

ریکٹر فاسٹ یونیورسٹی

رکن
12
میر عبدالمجیدنظامانی

ترقی پسند کاشتکار / صدر سندھ آباد گار بورڈ

رکن
13
میر جعفر خان جمالی

ترقی پسند کاشتکار / بلوچستان

رکن
14
سید متابعت شاہ

ترقی پسند کاشتکار / گلگت بلتستان

رکن
15
جناب افتخار مہمند

ترقی پسند کاشتکار خیبر پختنخواہ

رکن

انتظامی کمیٹی

انتظامی کمیٹی (ایگزیکٹو کمیٹی) کونسل کے چئیرمین اور بورڈ کے کل وقتی ارکان پر مشتمل ہے۔
آرڈیننس کی دفعات ، قواعدو ضوابط اور بورڈ کی طرف سے دی گئی عمومی اور خصوصی ہدایات سے مشروط، انتظامی کمیٹی ، کونسل کی اعلیٰ ترین انتظامی ہئیت ہے جو اس کی تمام پالیسیوں پر عمل درآمد اور آرڈیننس میں درج جملہ فرائض کی انجام دہی کی ذمہ دار ہے۔
یہ کمیٹی کونسل کےتحقیقی منصوبوں اور پروگراموں پر عملدرآمد ، کارکردگی اور کامیابیوں کا باقاعدگی کے ساتھ جائزہ لیتی ہےاور اس حوالے سے درکار ضروری اقدامات کے فیصلے کرتی ہے۔

چیئرمین

چیئرمین کونسل کا منتظم اعلی ٰ ہوتا ہےجس کا تقرر صدر پاکستان کی منطوری سے تین سال کے لیے کیا جاتا ہے۔
چئیرمین آرڈیننس کے تحت حاصل اختیارات کو بروئےکار لاتے ہوئے تمام فرائض اور ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔

کل وقتی ارکان: Whole Time Members

کل وقتی ارکان کا تقرر صدر پاکستان کی منظوری سے ، تین سال کی مدت کے لئے کیا جاتا ہے جو کونسل کے ٹیکنیکل ڈویژنز کے سربراہ اور بورڈآف گورنر کے ممبر بھی ہوتے ہیں۔