PARC
زرعی خبریں

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اورمیٹروپولیٹن کارپوریشن، اسلام آباد کے معیاری شہد کی پیداوار کیلئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط

January 13, 2020

مگس بانی ایک صنعت کی صورت اختیار کر چکا ہے جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے درمیان ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے۔مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے لئے ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی سربراہی میں ایک ٹیم نے میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے میئر شیخ انصر عزیز کے دفتر کا دورہ کیا۔ مفاہمتی یاداشت کے تحت پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو مارگلہ پہاڑیوں میں معیاری شہد کی تیاری کے لئے شہد کی مکھیوں کی کالونیاں تیار کرنے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں میں شہد کی مکھیوں کے لئے دوستانہ ماحول اور فلورا کی وجہ سے شہد کی مکھیاں پالنے کے وسیع مواقع موجودہیں۔ پی اے آر سی شہد کی مکھیاں پالنے، چھتے سے شہد نکالنے کے عمل، شہد کے معیار کی تصدیق، پیکنگ اور لیبل لگانے کے عمل کی بھی معاونت فراہم کرے گا۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی ایگر و مارکیٹنگ کمپنی (پیٹکو) کے ذریعے عام لوگوں تک شہد کی ترسیل ممکن بنائی جائے گی۔ پی اے آر سی کی ایگرو ٹیک کمپنی شہد اور اس سے تیارشدہ مصنوعات کی مارکیٹنگ میں پہلے ہی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل مارگلہ ہلز کے مقامی باشندوں کو مگس بانی کو بطور کاروبار اپنانے کی تربیت بھی فراہم کرے گی۔معاہدے کے تحت میٹرو پولیٹن کارپوریشن، اسلام آباد مارگلہ ہلز میں مگس بانی کے لئے مناسب جگہ فراہم کرے گی۔ شیخ انصر عزیز، میئر، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے مفاہمتی یاداشت کے دستخط کے موقع پر ڈاکٹر عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی زرعی خدمات کو سراہا اور ڈاکٹر عظیم خان، چیئر مین پی اے آرسی کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی کاوشوں کے نتیجے میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے مابین معیار ی شہد کی پیداوار میں اضافے کی مفاہمتی یاداشت پر عمل در آمد ممکن ہوا۔ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقات کونسل نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں شہد کی پیداوار ایک انتہائی مفید کاروبار ہے۔ یہ ایک ایسا مشغلہ ہے جو بڑے پیمانے پر اقتصادی شراکت داری بھی قائم کرتا ہے نیز مارگلہ ہلز کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی مگس بانی کے لئے ایک بہترین ماحول موجود ہے۔ مگس بانی ایک صنعت کی صورت اختیار کر چکا ہے جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔