PARC
زرعی خبریں

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے بورڈ آف گورنرز کا 44 واں اجلا س

January 13, 2020

* پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے بورڈ آف گورنرز کے44 ویں اجلا س میں کونسل کے لیے مالی سال2019-20کے لیے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ ٭ زراعت کو منافع بخش بنانا ہو گا۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل زرعی تحقیق کے نتائج کو کسان کے کھیت تک لے جانے میں بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔ ٭ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق مخدوم خسرو بختیار پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل 44ویں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں مالی سال 2019-20کے لیے پی اے آر سی کا بجٹ پیش کیا گیا۔ اجلاس کا انعقاد پی اے آر سی ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہو جسکی صدار ت وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق اور PARC کی BoG میٹنگ کے صدرجناب مخدوم خسرو بختیار نے کی۔ اس موقع پر وزارت کے اعلی حکام اور پانچوں صوبوں سے بورڈکے ممبران نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے بجٹ برائے مالی سال 2019-20 کی منظوری دی گئی۔ پی اے آر سی کا بجٹ تراب حیدر، ممبر فنانس، پی اے آر سی نے پیش کیا۔ وفاقی وزیرمخدوم خسرو بختیار نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے انتظامی بورڈ کے44 ویں اجلاس میں شریک معزز اراکین کو خوش آمدید کہا اوراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں زراعت کی ترقی اور غذائی تحفظ کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ دو سال سے ہماری زرعی جی ڈی پی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ کسانوں کے مسائل کا حل اور ان تک فصلوں کی نئی اقسام اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کونسل کے سائنسدانوں کے مرہون منت ہے۔ بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے جد ید علم اور نئی ٹیکنالوجی کو کسان کی دہلیز تک پہچانا ہو گا نیز حکومت کو بھی کاشتکار کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے پیداواری لاگت کو کم کرنے میں عام کسان کی مدد کرنی ہو گی۔۔انہوں نے کہا کہ چئیرمین پی اے آر سی، ڈاکٹرمحمد عظیم خان، کی زراعت کے شعبہ کے لیے اندرون اور بیرون ملک مضبوط روابط کے قیام میں تسلسل کے حصول کے لیے دی جانے والی خدمات کو سراہنا بھی بے جا نہ ہوگا۔ انکی کاوشوں کے نتیجے میں قومی زرعی تحقیقاتی نظام (این اے آر ایس) ترقی کرے گا۔ موجودہ حکومت، وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت شروع کئے جانے والے منصوبہ جات برائے چاول، گندم، گنا، دالیں کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کی بہتری ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت نے مشترکہ طور پر 14بڑے منصوبہ جات شروع کئے ہیں جن کی لاگت تقریبا 300بلین ہے۔ جن میں سے 67بلین گندم، چاول، گنا تیلدار اجناس اور دالوں کی پیداوار میں اضافہ کے متعلق ہیں۔ان بڑے منصوبہ جات میں امور حیوانات، ماہی پروری، پولٹری اور پانی کے شعبہ جات بھی شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے بورڈ آف گورنرز کے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ موجودہ حکومت نے زراعت میں سرمایہ کاری کو ایک بلین کو بڑھا کر 12بلین کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک اس وقت اشیاء خورد و نوش میں تجارت کی کمی کا شکار ہے جبکہ ملکی برآمدات کا بڑا حصہ زراعت میں اچھی کارکردگی سے منسلک ہے۔ پاکستان نے اپنی درجہ بندی کو اشیاء خورد و نوش کے درآمدی ملک سے برآمدی ملک میں تبدیل کیا ہے۔زراعت سے منسلک مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ تمام فصلات کی پیداوار میں اضافہ کو ممکن بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی،وفاقی سیکرٹری برائے تحفظ خوراک و تحقیق نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زراعت سے متعلقہ مختلف اجناس اور اشیاء پر خصوصی رعایت (سبسڈی) فراہم کی ہے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف پیکجز پیش کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کونسل کے زرعی سائنسدانوں سے بہت سے توقعات رکھتی ہے۔ ہماری اصل کامیابی یہ ہے کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں اور زرعی بر آمدات بڑھائی جائیں تا کہ زر مبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو اور ملک ترقی کی منازل طے کرے۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان چئیرمین پی اے آر سی نے سسٹم کی ترقی و ترویج کے لیے دیگر اُٹھائے جانے والے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔جناب وقار احمد، سیکرٹری پی اے آر سی، نے ہاؤس کے سامنے ایجنڈا پیش کیا۔ اسکے بعد کونسل کے ممبران اور اعلی عہدیداران نے اپنے اپنے شعبہ جات کے حوالے سے میٹنگ میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بورڈ کے دیگر ممبران نے کہا کہ ہمیں فصلوں کی پیداوار کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے دیگر عمل جیسے کہ عام کسان کی زرعی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور تصدیق شدہ پلانٹ، نرسریاں اور ٹریننگ مہیا کرنے پر بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق پر توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔