PARC
زرعی خبریں

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نمائندگان کا دورہ این اے آر سی

December 20, 2019

– پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، اسلام آباد میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کی آگاہی اور نئی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں پر عمل در آمد کے حوالے سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے معلوماتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔
– میڈیا پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی زرعی کاوشوں کو اجاگر کرنے میں مدد فراہم کرے۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان،پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل
پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان کے لیے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے زیر اہتمام ہونے والی زرعی تحقیقی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے اور نئی ٹیکنالوجی پر عمل در آمد کے حوالے سے ایک معلوماتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ اس دورے کا انعقاد پی اے آر سی کی جانب سے کیا گیا جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، اسلام آباد نے دورہ پر آنے والے معزز صحافیوں کو خوش آمدید کہا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کو ڈاکٹر محمد عظیم خان کی جانب سے زرعی کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے تمام ادارے کس طرح ملک میں زرعی خود کفالت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے دورے کے دوران، میڈیا کے نمائندوں کو زرعی انجنیئرنگ انسٹی ٹیوٹ لے جایا گیا جہاں انہیں مختلف قسم کی زرعی مشینری دکھائی گئی، جس میں زیتون کا تیل نکالنے والی مشین، گندم کا کٹائی کا تھریشراور دیگر زرعی مشینری دکھائی گئی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں نے زرعی مشینری کے استعمال کے بارے میں مختلف سوالات بھی کئے۔ میڈیا کے نمائندوں کو اس بات سے بھی آگا ہ کیا گیا کہ زرعی انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ نے آج سے دو سال پہلے اسپغول کی مشینری مقامی طور پر تیار کرنے پر تحقیق شروع کی۔۔ اب ماشاء اللہ زرعی انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ کے انجینئرز کی کاوشوں سے اسپغول کی مشینری جیسا کہ اسپغول کا تھریشر، کلینر(Cleaner)،ڈی ہسکر کم ونوور (de-husker-cum-winnower) اور ہوا کا کلاسیفائر(air-classifier) (ہوا کی مدد سے اسپغول کے چھلکے کا وزن اور حجم کی درجہ بندی کرتی ہے) مقامی طور پر تیار ہو چکی ہے۔ اسپغول مشینری کا سب سے زیاد ہ فائدہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے کسانوں کو ہو گا جہاں اسپغول تجارتی بنیادوں پر کاشت کی جاتی ہے. اس مشینری کی بنیاد پر کسان مقامی سطح پر اسپغول کا معیاری بیج بھی حاصل کر سکیں گے۔میڈیا کے نمائندوں کو نقل پذیر شمسی سسٹم کا معائنہ بھی کرایا گیا۔ انگورا ریبٹ فارمنگ کا بھی دورہ کرایا گیا اور میڈیا کے نمائندوں کو بتایا گیا کہ انگورا ریبٹ سے انتہائی قیمتی اون حاصل کی جاتی ہے۔ پیٹکو کی جانب سے قائم کیا گیا تلاپیا مچھلی پوائنٹ بھی میڈیا کے نمائندوں کو دکھایا گیا۔میڈیا کے نمائندوں کو بتایا گیا کہ تلاپیہ کو ذائقہ کے لحاظ سے آبی مرغی کا لقب بھی دیا جاتا ہے۔ اس کا گوشت بہت لذیذ اورگوشت میں کانٹے نہیں پائے جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرعمر کا بندہ اسے باآسانی کھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پولٹری کی بیماریوں کے انسداد کے لئے قائم لیبارٹری اور ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا بھی دورہ کیا گیا جہاں پر کی جانے والی تحقیق میں میڈیا نے نمائندوں نے گہری دلچسپی ظاہر کی۔قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے دورہ کے دوران میڈیا کے نمائندوں کو شمسی توانائی کے ذریعے پھل اور سبزیاں خشک کرنے والی ٹیکنالوجی بھی دکھائی گئی۔ میڈیا نے نمائندگان نے گندم کی فصل کے کھیتوں کا بھی دورہ کیا جہاں مختلف اقسام کی گندم تجرباتی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔میڈیاکے نمائندوں کو زرعی کونسل کی اسٹابری پھل کی تحقیق اور کیوی فروٹ کے متعلق بھی بریف کیا گیاجو کہ انتہائی منافع بخش فصلات ہیں۔ڈاکٹر عظیم خان نے میڈیا کے نمائندوں کو سویابین کی فصل کے کاشت کے حوالے سے بتایا کہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی وجہ سے تحقیق دان اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ نہ صر ف سو یابین کو مسابقتی لحاظ سے کاشت کیا جائے بلکہ اسے منافع بخش بھی بنایا جائے۔ پچھلی چار دہائیوں میں سویابین پر ہونے والی تحقیق نے کسانوں کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ زیادہ رقبہ پر اس فصل کو کاشت کر سکیں۔ اس وقت قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں سویابین کی فصل کاشت کی گئی ہے جبکہ زرعی تحقیقاتی مرکز کے ایک وسیع رقبہ پر دالیں کاشت کی گئی ہیں. سویابین کے بیج پوٹھوہار، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے کسانوں کو بھی فراہم کئے گئے ہیں تا کہ اس منافع بخش فصل کے ذریعے سویابین کے تیل کی درآمد میں کمی لائی جا سکے۔ میڈیا نے نمائندوں نے شہد کے تحقیقی ادارے کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں دکھایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کس طرح ملک میں بہترین شہد کے فروغ کے لئے اقدامات کر رہی ہے ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پی اے آر سی اور ڈاکٹر غلام محمد علی نے میڈیا کے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میڈیا کے نمائندے پی اے آر سی کے زیر اہتمام ہونے والی زرعی تحقیقی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے میں مدد دیں تا کہ پی اے آر سی کی تحقیق عام کسان تک پہنچ سکے۔میڈیا کے نمائندوں کے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کی زیر نگرانی ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی زرعی تحقیقی کاوشوں کو سراہا۔ میڈیا کے نمائندوں میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔