PARC
زرعی خبریں

پی اے آر سی میں چاول کی ورائٹی اویلوایشن کمیٹی کا اجلاس

September 23, 2019

<-- wp:html -->

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل میں ورائٹی اویلولوایشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چاو ل کی 7 نئی اقسام کی پاکستان میں تجارتی پیمانے پر کاشتکاری کے لئے منظوری دی گئی۔
اجلاس کی صدارت محمد ایوب چوہدری، چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، اسلام آباد نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر عبد الغفور (ممبر علوم نباتات)،پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل بھی موجود تھے۔اجلاس کے شرکاء سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چیئر مین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے ورائٹی ایوالوایشن، اس کی ریلیز اور اس ضمن میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے کردار پر روشنی ڈالی اور اجلاس میں مدعو کئے گئے مہمانان گرامی کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور تحقیق سے وابستہ افراد کو چاول کی نئی اقسام برائے سفارش عام کاشت کے لئے پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی اجناس کی اقسام پاکستان کے زرعی و علاقائی ماحول سے مطابقت رکھتے ہوئے متعارف کرائی جائیں تا کہ ایک عام کسان ان نئی جدید اقسام سے فائدہ اٹھا سکے اور اپنے ذرائع آمدن میں اضافہ کر سکے۔ایوب چوہدری، چیئر مین پی اے آر سی نے مقامی سطح پر بیج کی پیداوار بڑھانے میں خود کفالت کے حصول پر زور دیا تاکہ بڑے پیمانے پر بیج کی درآمد میں کمی لائی جا سکے۔ چیئر مین پی اے آر سی نے ورائٹی ایوالوایشن کمیٹی کے اجلاس میں غیر ملکی ممبران و شرکاء کی شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔چیئر مین پی اے آر سی ایوب چوہدری نے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت آنے والے نئے پراجیکٹس کے بارے میں بھی اجلاس کے شرکاء کو بتایا۔
اجلاس میں پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کے نمائندے اور نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سسٹم (نارس سسٹم)سے تعلق رکھنے والے ممبران بھی موجودتھے۔ڈاکٹر عبد الغفور (ممبرعلوم نباتات)، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، اسلام آباد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ورائٹی ایوالوایشن کمیٹی کا بنیادی مقصد کاشت کار کو معیاری بیج کی فراہمی ہے۔ اجلاس میں بیج کی پیداوار، منظوری، ریلیزاور اس کی مارکیٹنگ کے دوران درپیش مسائل کے حوالے سے بھی بحث کی گئی نیز ان مسائل کے حل کے لئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام کے موقع پر ڈاکٹر عبد الغفور، ممبر(علوم نباتات) پی اے آر سی نے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر ان کی کاوشوں کا سراہا نیز مختلف اجناس کی نئی ہائبرڈ اقسام منظور کئے جانے اور کاشت کے لئے تجارتی پیمانے پر فروغ کے اقدامات کو سراہا۔کمیٹی کے ممبران نے پرائیویٹ بیج کمپنیوں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اس طرح سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر ملکر کام کریں تو ملک زراعت میں خود کفیل ہو گا۔

<-- /wp:html -->