PARC
زرعی خبریں

سر سبز و صاف پاکستان مہم کا آغاز

August 27, 2019

<-- wp:html -->

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کی “کلین اینڈ گرین پاکستان مہم” کے تحت “پلانٹ فار پاکستان ڈے”منایا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی، وفاقی سیکریٹری برائے غذائی تحفظ و تحقیق، اسلام آباد نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، صدر دفاتر، اسلام آباد جبکہ محمد ایوب چوہدری، چیئر مین، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، چک شہزاد، اسلام آباد میں پودا لگایا۔زرعی تحقیقاتی کونسل میں ” پلانٹ فار پاکستان ڈے”کے موقع پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میڈیا کے نمائندوں نے بھی ” پلانٹ فار پاکستان ڈے”کی مناسبت سے پودے لگائے۔لگائے جانے والے پودوں میں زیتون، لیمن، جامن اور دیگر شامل ہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی نے کہا کہ “کلین اینڈ گرین پاکستان مہم “کے آغاز کے موقع پر کہا کہ شجر کاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اُگائے جائیں۔وفاقی سیکریٹری نے مزید کہا کہ پاکستان میں آبادی کے اضافہ کی وجہ سے جہاں دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے وہاں ماحولیاتی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس کے باعث عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی ایک بڑی وجہ درختوں کی کمی ہے۔درخت اور پودے لگانے سے ماحول میں درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھا جا سکتا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری نے مزید بتایا کہ شجر کاری مہم کے تحت پورے اسلام آباد میں پھل دار پودے لگائے جائیں گے
پلانٹ فار پاکستان ڈے کے تحت، چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل، محمد ایوب چودھری نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، پارک روڈ، اسلام آباد میں پودا لگایا۔زرعی تحقیقاتی کونسل کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محمد ایوب چودھری، چیئر مین، پی اے آر سی نے درخت اُگانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ہر زرعی سائنسدان، تحقیق دان اور انٹرنیز پرزور دیا کہ وہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات بہت قیمتی ہیں اور ان سے ہمیں لکڑی، زمین کی ذرخیزی، پانی کے بہاؤکی ترتیب اور دیگر اہم چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔چیئر مین پی اے آر سی نے مزید کہا کہ درختوں کا کٹاؤ گلوبل وارمنگ میں اضافے کی بڑی وجہ ہے نیز درختوں کے لا تعداد کٹاؤ سے فضا میں آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہو رہی ہے۔درخت انسان کا بے حد قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہمارے ملک میں صرف 4فی صد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25فی صد جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیئے۔چیئر مین پی اے آر سی نے یہ بھی بتایاکہ شجر کاری مہم کے تحت پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل سے منسلک تمام ادارے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں بھی ” پلانٹ فار پاکستان ڈے”کے موقع پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھے نیز میڈیا کے نمائندوں نے پودے بھی لگائے۔

<-- /wp:html -->