گزشتہ پچاس برس کے دوران ملک میں مسور کی جاری شدہ تمام اقسام کم پیداواررہی تھیں
کسی بھی قسم میں دو اہم بیماریوں پھپھوندی اور ۔۔۔ کے خلاف مدافعت نہیں تھی اور نہ ہی یہ اقسام خشک سالی برداشت کر سکتی تھیں
ملک اپنی ضروریات کا 50فیصد درآمد کر نے پر مجبور تھا
ان حالات کا تقاضا تھا کہ ایک ایسی قسم تیار کی جائے جو بیماریوں کے خلاف مدافعت ، موسمی حالات خشک سالی وغیرہ میں مطابقت رکھنے کے ساتھ ساتھ زیادہ حیاتین کی حامل ہواور خوش ذائقہ بھی ہو
اقدامات :
مسور کی قسم کی آئی ڈیو ٹائپ کی تیاری پر تحقیق کا آغاز 2000ء میں کیا گیا اورپیرنٹل لائن امریکہ اور کینیڈا سے حاصل کی گئیں
ان کو کراسنگ سے پہلے جانچا گیا اور شٹل بریڈنگ اور دیگر جدید اپروچز کو استعمال میں لاتے ہوئے نئی ورائٹی کی تیاری کے دورانیہ کو کم کیا گیا
ابتدائی طور پر اپنی مقداری اور اضافی خواص کے لیے جانچکاری کی گئی
بیجوں کی یکجائی کے بعد مواد کو وسیع مطابقت کاحامل بنانے کے لیے مختلف زرعی ماحولیات علاقوں میں کئی مقامات پر کاشت کیا گیا اور اس طرح صرف 9سال کے عرصہ میں نئی قسم تیاری کر لی گئی جو اجرا ء کے لیے تیار تھی
نتائج :
این اےآرسی کی مسور کی قسم مرکز 09 تمام مطلوبہ خواص کے ساتھ 2009 میں تیار کرکے بارانی اور نہری دونوں علاقوں کے لیے جاری کردی گئی
مسور کی یہ قسم اس وقت تقریباً 6000ہیکٹر رقبہ بالخصوص پوٹھوہار میں کاشت کی جارہی ہے
یہ ورائٹی تقریباً 3.2ٹن فی ہکٹر پیداواری صلاحیت کے امکانات کی حامل ہے
اس کی اوسط پیداوار 1.8ٹن فی ہیکٹر ہے جو گزشتہ مروجہ اقسام مسور 93اور نیاب مسور 06 کے مقابلہ میں 135 فیصد زائد ہے
مسور کی یہ قسم پکنے اور گلنے میں بھی 5 سے 10فیصد کم وقت لیتی ہے
مستقبل :
بیج کی پیداوار کا باقاعدہ معاہداتی نظام جس کے مستند اور معیاری بیجوں کی کاشتکاری تک ترسیل یقینی بنائی جا سکے
مزید مطلوبہ اور حسب منشاء خصوصیات کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کی تیاری اور تعارف