PARC
اہم کامیابیاں

اناج معیار شناس تجربہ گاہیں

چیلنج :

  • زرعی اجناس کی بین الاقوامی تجارت مسلمہ بین الاقوامی معیارات سے مطابقت کی حامل تجربہ گاہیں استناد کے تحت ہوتی ہیں ۔
  • ملکی سطح پر مستند تجربہ گاہوں کی غیر دستیابی کی وجہ سے تاجرین سرٹیفکیٹ کے لیے باہر کے ممالک سے روابط کرنے پڑتے تھے جس میں وقت اور مالی وسائل دونوں کا ضیاع تھا اور نتیجہ برآمدی کھیپ تاجر کاشتکار بھی ہوتی تھیں ۔
  • غیر مستند مال یا تو مسترد ہو جاتی تھیں یا انتہائی کم قیمت حاصل کرتی تھیں ۔
  • 2002ء میں دو ملین ٹن اضافی گندم کی برآمدی کھیپ مسترد ہونے سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا
  • پاکستان گندم چاول اور بہت سے پھلوں کی اضافی پیداوار کا حامل ملک ہے ۔بین الاقوامی معیارات کی پابندی کرتے ہوئے ہم ان کی تجارت سے بہترین قیمت حاصل کرسکتے ہیں
  • اس صورتحال میں چیلنج یہ تھا کہ ملک میں بین الاقوامی تجارتی معیارات کو پورا کرنے والی اناج اور پھلوں کی معیارات پاس کرنے والی تجربہ گاہیں قائم کی جائیں

اقدامات :

  • 2002ء میں اسلام آباد اور کراچی میں دو جدید سہولیات سے آراستہ اناج معیار شناس تجربہ گاہوں کے قیام کا آغاز کیا
  • صرف دو سال کے قلیل عرصہ میں رہنمائی میں اور تجرباتی طریق کار کی معیاربندی پر کام کرنے کے بعد ان تجربہ گاہوں کو عملاًفعال کردیا گیا
  • 2007ء میں اس تجربہ گاہ نے ناڈومن ایکریڈیشن کونسل سے ISO17025ایکریڈیشن کے حصول کے بعد عالمی قبولیت اور ساکھ بنائی ہے

نتائج :

  • آج پی اےآر سی اس تجربہ گاہ کے ذریعے مختلف زرعی اجناس و پیداوار کے خصوصیات جانچنے کے لیے ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات مہیا کرتی ہے
  • ان تجربہ گاہوں کی بدولت روس ، مصر اور میکسیکو میں پاکستانی گندم اور چاول پر عائد پابندیاں ختم کرانے میں مدد ملی ہے
  • 2005ء میں پی اےآرسی پاکستان سے گندم کی برآمد یا درآمد کو مسترد کیے جانے کے خلاف معیار کی ضمانت دیتی ہے
  • پی اےآرسی اس وقت سرکاری و نجی شعبہ کو سالانہ 5ہزار سے زائد اجناس کے نمونہ جات کے ٹیسٹ کر رہی ہے
  • پھلوں اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کو کیڑے مار دواوں کے رہ جانے والے اثرات اور بھاری دھاتوں کے حوالے سے بھی تجرباتی اور استنادی سہولیات فراہم کرتی ہے

مستقبل :

  • اناج پھل سبزیوں کے علاوہ دیگر زرعی پیداوار کے لیے بھی ان سہولیات کی فراہمی ہمارا مطمع نظر ہے
GQTLs: the only ISO 17025 accredited laboratories in Pakistan
Scientists working in GQTL Lab